سبق ۵۵، قَدْ
ہو چکا، ہو سکتا ہے: قَدْ
ماضی سے پہلے قَدْ کا مطلب ہے «ہو چکا» یا «یقیناً»: قَدْ وَصَلَ الضُّيُوفُ (مہمان پہنچ چکے ہیں)۔ مضارع سے پہلے «ہو سکتا ہے» یا «کبھی کبھی»: قَدْ يَتَأَخَّرُ (ہو سکتا ہے وہ دیر کرے)۔
تصویروں سے سیکھیں
تصویر پر ٹیپ کریں اور جملہ سنیں۔
مثالیں
قَدْ وَصَلَ الضُّيُوفُqad waṣala ḍ-ḍuyuufuمہمان پہنچ چکے ہیں۔
قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُqad qaamati ṣ-ṣalaatuنماز کھڑی ہو چکی ہے۔
قَدْ يَنْزِلُ الْمَطَرُ الْيَوْمَqad yanzilu l-maṭaru l-yawmaآج بارش ہو سکتی ہے۔
لَقَدْ نَجَحْتُ فِي الِامْتِحَانِlaqad najaḥtu fil-imtiḥaaniمیں امتحان میں کامیاب ہو گیا!
فَرِحْتُ فَرَحًا كَبِيرًاfariḥtu faraḥan kabiiranمیں بہت زیادہ خوش ہوا۔
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَqad aflaḥa l-mu’minuunaیقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے۔ (المؤمنون ۱)
اہم نکات
- لَقَدْ زیادہ زور دار ہے: لَقَدْ نَجَحْتُ! (میں واقعی کامیاب ہو گیا!)۔
- اقامت میں یہی آتا ہے: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ (نماز کھڑی ہو چکی)۔
- زور دینے کا ایک اور طریقہ فعل کے بعد اس کا مصدر لانا ہے: فَرِحْتُ فَرَحًا كَبِيرًا (میں بہت زیادہ خوش ہوا)۔
مشق
جواب دیکھنے کے لیے سوال پر ٹیپ کریں۔
«سبق شروع ہو چکا ہے» کہیں۔
قَدْ بَدَأَ الدَّرْسُ qad bada’a d-darsu
«ہو سکتا ہے وہ کل آئے» کہیں۔
قَدْ يَأْتِي غَدًا qad ya’tii ghadan
«میں نے واقعی سیکھ لیا!» کہیں۔
لَقَدْ تَعَلَّمْتُ laqad taʿallamtu