سبق ۴۲، إِلَّا
سوائے: إِلَّا
إِلَّا کا مطلب ہے «سوائے»۔ مکمل مثبت جملے کے بعد مستثنیٰ منصوب ہوتا ہے: حَضَرَ الطُّلَّابُ إِلَّا خَالِدًا (خالد کے سوا سب طلبہ آئے)۔
تصویروں سے سیکھیں
تصویر پر ٹیپ کریں اور جملہ سنیں۔
مثالیں
حَضَرَ الطُّلَّابُ إِلَّا خَالِدًاḥaḍara ṭ-ṭullaabu illaa khaalidanخالد کے سوا سب طلبہ آئے۔
قَرَأْتُ الْكِتَابَ إِلَّا صَفْحَةًqara’tu l-kitaaba illaa ṣafḥatanمیں نے ایک صفحے کے سوا پوری کتاب پڑھی۔
مَا عِنْدِي إِلَّا رِيَالٌ وَاحِدٌmaa ʿindii illaa riyaalun waaḥidunمیرے پاس صرف ایک ریال ہے۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُlaa ilaaha illa llaahuاللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
الْمَحَلَّاتُ مَفْتُوحَةٌ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِal-maḥallaatu maftuuḥatun illaa yawma l-jumuʿatiدکانیں جمعہ کے سوا کھلی رہتی ہیں۔
حَضَرَ الطُّلَّابُ غَيْرَ خَالِدٍḥaḍara ṭ-ṭullaabu ghayra khaalidinخالد کے علاوہ سب طلبہ آئے۔
اہم نکات
- منفی جملے کے بعد إِلَّا کا مطلب «صرف» ہوتا ہے اور اسم کا اعراب نہیں بدلتا: مَا عِنْدِي إِلَّا رِيَالٌ (میرے پاس صرف ایک ریال ہے)۔
- کلمۂ توحید میں یہی ہے: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)۔
- غَيْرَ کا مطلب بھی «سوائے» ہے، اور اس کے بعد والا اسم مجرور ہوتا ہے: حَضَرَ الطُّلَّابُ غَيْرَ خَالِدٍ۔
مشق
جواب دیکھنے کے لیے سوال پر ٹیپ کریں۔
«میں نے ایک کے سوا سب سیب کھا لیے» کہیں۔
أَكَلْتُ التُّفَّاحَ إِلَّا وَاحِدَةً akaltu t-tuffaaḥa illaa waaḥidatan
«میرے پاس صرف ایک کتاب ہے» کہیں۔
مَا عِنْدِي إِلَّا كِتَابٌ maa ʿindii illaa kitaabun
«علی کے سوا سب آئے» کہیں۔
حَضَرَ الْجَمِيعُ إِلَّا عَلِيًّا ḥaḍara l-jamiiʿu illaa ʿaliyyan