سبق ۷۱، أَعْطَى
دو مفعول: أَعْطَى، ظَنَّ اور وَجَدَ
کچھ افعال دو مفعول لیتے ہیں اور دونوں منصوب ہوتے ہیں۔ دینے والے افعال: أَعْطَيْتُ الْوَلَدَ كِتَابًا (میں نے لڑکے کو کتاب دی)۔ سمجھنے اور پانے والے افعال، جن کے دونوں مفعول اصل میں مبتدا و خبر تھے: الدَّرْسُ سَهْلٌ ← ظَنَنْتُ الدَّرْسَ سَهْلًا (میں نے سبق کو آسان سمجھا)۔
تصویروں سے سیکھیں
تصویر پر ٹیپ کریں اور جملہ سنیں۔
مثالیں
أَعْطَيْتُ الْفَقِيرَ مَالًاaʿṭaytu l-faqiira maalanمیں نے فقیر کو پیسے دیے۔
أَعْطِنِي الْقَلَمَaʿṭinii l-qalamaمجھے قلم دو۔
ظَنَنْتُ الِامْتِحَانَ صَعْبًاẓanantu l-imtiḥaana ṣaʿbanمیں نے امتحان کو مشکل سمجھا۔
وَجَدْتُ الْبَابَ مُغْلَقًاwajadtu l-baaba mughlaqanمیں نے دروازہ بند پایا۔
سَمَّيْتُ ابْنِي عَبْدَ اللّٰهِsammaytu bnii ʿabda llaahiمیں نے اپنے بیٹے کا نام عبداللہ رکھا۔
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًاalam najʿali l-arḍa mihaadanکیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟
اہم نکات
- دینا اور نام رکھنا: أَعْطَى دینا · مَنَحَ عطا کرنا · سَأَلَ مانگنا · أَلْبَسَ پہنانا · سَمَّى نام رکھنا: سَمَّيْتُ ابْنِي مُحَمَّدًا (میں نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا)۔
- سمجھنا اور پانا (ظَنَّ وَأَخَوَاتُهَا): ظَنَّ گمان کرنا · حَسِبَ سمجھنا · وَجَدَ پانا · عَلِمَ جاننا · جَعَلَ بنانا: أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا (کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا؟)۔
- ضمیر ہو تو پہلا مفعول فعل سے جڑ جاتا ہے: أَعْطَيْتُهُ كِتَابًا (میں نے اسے کتاب دی) · وَجَدْتُهُ مَشْغُولًا (میں نے اسے مصروف پایا)۔
مشق
جواب دیکھنے کے لیے سوال پر ٹیپ کریں۔
«میں نے اپنی امی کو تحفہ دیا» کہیں (هَدِيَّةً)۔
أَعْطَيْتُ أُمِّي هَدِيَّةً aʿṭaytu ummii hadiyyatan
«میں نے سبق آسان پایا» کہیں۔
وَجَدْتُ الدَّرْسَ سَهْلًا wajadtu d-darsa sahlan
«میں نے اسے استاد سمجھا» کہیں۔
ظَنَنْتُهُ مُعَلِّمًا ẓanantuhu muʿalliman