حَرْف English

صفحۂ اول کہانیاں کلاسیکی کہانیاں جحا اور دیگچی

درجہ ۲، ۳۲/۱۰۰

جحا اور دیگچی جُحَا وَالْقِدْرُ

istaʿaara juḥaa qidran kabiiran min jaarihiجحا نے اپنے پڑوسی سے ایک بڑی دیگچی ادھار لی۔
baʿda ayyaamin aʿaada al-qidra wamaʿahu qidrun ṣaghiiratunکچھ دن بعد اس نے دیگچی واپس کی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹی دیگچی بھی تھی۔
taʿajjaba al-jaaru maa haadhaaپڑوسی حیران ہوا: «یہ کیا ہے؟»
qaala juḥaa waladat qidruka yaa jaariiجحا نے کہا: «پڑوسی! تمہاری دیگچی نے بچہ دیا ہے!»
ḍaḥika al-jaaru walaakinnahu akhadha al-qidra aṣ-ṣaghiirataپڑوسی ہنسا مگر اس نے چھوٹی دیگچی رکھ لی۔
baʿda usbuuʿin istaʿaara juḥaa al-qidra marratan ukhraaایک ہفتے بعد جحا نے دیگچی پھر ادھار لی۔
marra yawmun thumma yawmaani walam yuʿidhaaایک دن گزرا، پھر دو دن، اور اس نے اسے واپس نہ کیا۔
dhahaba al-jaaru ilayhi wasa’alahu ʿan qidrihiپڑوسی اس کے پاس گیا اور اپنی دیگچی کے بارے میں پوچھا۔
qaala juḥaa biḥuznin maatat qidrukaجحا نے افسوس سے کہا: «تمہاری دیگچی مر گئی!»
qaala al-jaaru al-quduuru laa tamuutuپڑوسی نے کہا: «دیگچیاں نہیں مرتیں!»
qaala juḥaa wahal talidu al-quduuru ṣaddaqta dhaalika min qabluجحا نے کہا: «اور کیا دیگچیاں بچے دیتی ہیں؟ یہ تو تم پہلے مان چکے ہو!»

کسی لفظ پر ٹیپ کریں تو اس کی آواز اور مطلب یہاں نظر آئے گا۔ «لفظ کا مادہ اور ماخذ» آن کریں تو مادہ اور اسی مادے کے دوسرے الفاظ بھی ملیں گے۔

اس کہانی کے بارے میں

یہ جحا کا ایک قصہ ہے۔ جحا ایک افسانوی ظریف شخصیت ہے جس کے لطیفے پوری عرب دنیا میں مشہور ہیں؛ ترکی میں اسے نصرالدین ہوجا کہتے ہیں۔