حَرْف English

صفحۂ اول کہانیاں کلاسیکی کہانیاں جحا کی تقریر

درجہ ۱، ۳۵/۱۰۰

جحا کی تقریر خُطْبَةُ جُحَا

ṣaʿida juḥaa al-minbara liyakhṭubaجحا تقریر کرنے کے لیے منبر پر چڑھا۔
sa’ala an-naasa hal taʿrifuuna maa sa’aquulu lakumاس نے لوگوں سے پوچھا: «کیا تم جانتے ہو کہ میں تم سے کیا کہوں گا؟»
qaaluu laa laa naʿrifuانہوں نے کہا: «نہیں، ہم نہیں جانتے۔»
qaala juḥaa maa faa’idatu an ukallima qawman laa yaʿrifuuna wanazalaجحا نے کہا: «ان لوگوں سے بات کرنے کا کیا فائدہ جو جانتے ہی نہیں؟» اور نیچے اتر آیا۔
fii al-yawmi at-taalii sa’alahumu as-su’aala nafsahuاگلے دن اس نے ان سے وہی سوال پوچھا۔
qaaluu naʿam naʿrifuانہوں نے کہا: «ہاں، ہم جانتے ہیں!»
qaala juḥaa idhan laa ḥaajata ilaa kalaamii wanazalaجحا نے کہا: «تو پھر میری بات کی ضرورت ہی نہیں۔» اور نیچے اتر آیا۔
fii al-yawmi ath-thaalithi qaala niṣfuhum naʿam waqaala an-niṣfu al-’aakharu laaتیسرے دن آدھوں نے کہا: «ہاں» اور باقی آدھوں نے کہا: «نہیں۔»
qaala juḥaa liyukhbiri alladhiina yaʿrifuuna alladhiina laa yaʿrifuunaجحا نے کہا: «جو جانتے ہیں وہ ان کو بتا دیں جو نہیں جانتے۔»
wanazala mina al-minbari ḍaaḥikanاور وہ ہنستا ہوا منبر سے اتر آیا۔

کسی لفظ پر ٹیپ کریں تو اس کی آواز اور مطلب یہاں نظر آئے گا۔ «لفظ کا مادہ اور ماخذ» آن کریں تو مادہ اور اسی مادے کے دوسرے الفاظ بھی ملیں گے۔

اس کہانی کے بارے میں

یہ جحا کا ایک قصہ ہے۔ جحا ایک افسانوی ظریف شخصیت ہے جس کے لطیفے پوری عرب دنیا میں مشہور ہیں؛ ترکی میں اسے نصرالدین ہوجا کہتے ہیں۔